اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تہران میں یمن کے سفیر محمد الدلیمی نے اسلامی مؤتلفہ پارٹی کے مرکزی دفتر میں اس جماعت کی مرکزی کونسل کے سربراہ اسداللہ بادامچیان سے ملاقات اور گفتگو کی۔
ملاقات میں یمن اور خطے کی تازہ صورتحال، سیاسی اور جماعتی تعلقات کے ساتھ ساتھ مشترکہ تعاون کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
محمد الدلیمی نے اس ملاقات میں عالم اسلام کی صورتحال اور یمن میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’جن لوگوں نے خدا کے گھر کی بے حرمتی کی اور خانہ کعبہ کے پردے کو ایپسٹین کے حوالے کیا، وہ آل سعود تھے۔ جن لوگوں نے ایک بے حجاب گلوکارہ کو مکہ لایا، وہ بھی آل سعود تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ اسلامی مؤتلفہ پارٹی کے ترکی اور پاکستان کی جماعتوں اور بھائیوں کے ساتھ روابط ہیں، اس لیے ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے میں بھی تعاون کریں۔‘‘
انہوں نے انصار اللہ کے مجاہدین کی میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’ہم نے انتہائی محدود وسائل کے ساتھ بڑی کامیابی حاصل کی، جبکہ ہمارے دشمن کے پاس بہترین وسائل اور فضائی مدد کے ساتھ 80 ہزار فوجی موجود ہیں۔ آزاد کرائے گئے علاقے کا رقبہ 6 ہزار مربع کلومیٹر ہے، جو لبنان کے نصف رقبے کے برابر ہے اور اسے پانچ دن کے اندر فتح کیا گیا۔ اس کے علاوہ چار اہم جزیرے بھی فتح کیے گئے۔‘‘
یمنی سفیر نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ماضی میں بھارت، میانمار اور دنیا کے دور دراز علاقوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا جاتا تھا اور میں سوچتا تھا کہ ہم ان کی مدد کیسے کرسکتے ہیں جبکہ وہ ہم سے دور ہیں؟ رسول اللہ (ص) نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی فریاد سنے اور اس کا جواب نہ دے اور اس کی مدد کے لیے نہ پہنچے، وہ مسلمان نہیں۔ اب ہمارے اور آپ کے اختیار میں موجود ان دو آبناؤں کی وجہ سے دنیا میں کوئی بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم اور نسل کشی کی جرأت نہیں کرسکتا۔‘‘
ملاقات میں اسلامی مؤتلفہ پارٹی کی مرکزی کونسل کے سربراہ اسداللہ بادامچیان نے خطے کی صورتحال اور قوموں کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’لبنان میں حکومت مغرب کے ساتھ تعاون کرتی ہے، لیکن عوام مزاحمت کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے امام خمینی (رہ) کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’امام خمینی، جنہوں نے اسلامی مؤتلفہ پارٹی کی بنیاد رکھی، فرمایا کرتے تھے کہ اگر پوری امت مسلمہ ایک ایک بالٹی پانی ڈال دے تو اسرائیل سیلاب میں بہہ جائے گا۔‘‘
بادامچیان نے عالمی حالات کے بارے میں کہا: ’’اس سال اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی گفتگو احمقانہ اور ایرانی صدر کی تقریر تاریخی تھی۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ آل سعود امریکہ سے مداخلت کی بھیک مانگ رہا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے باعث امریکہ مداخلت نہیں کررہا۔‘‘
اسلامی مؤتلفہ پارٹی کی مرکزی کونسل کے سربراہ نے آخر میں مزاحمتی محاذ کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’میں ہر رات نماز شب میں جناب بدرالدین الحوثی کے لیے دعا کرتا ہوں۔ ہماری طرف سے یمن کے مجاہدین کو مبارکباد پہنچائیں۔‘‘
ملاقات میں دونوں جانب سے یمن کی تازہ صورتحال، خطے کے حالات، مسئلہ فلسطین، سیاسی اور جماعتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں اور مشترکہ تعاون کی یادداشت پر دستخط سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ